قرآن حکیم میں سورہ المدثر آیت ۰ میں ارشاد باری تعالی ہے کہ اس پر انیس ہے اسکی کیا ماہیت اور مطلب ہے؟ مفسرین اس سے مراد جنم کے فرشتے لیتے ہیں ظاہر اسباق کلام سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے لیکن خود سید عالم ﷺ نے اس ضمن میں یہ ارشاد نہیں فرمایا کہ اس سے صرف دوزخ ہی کے فرشتے مراد لئے جائیں۔ قرآن کے بارے میں بحث کرنا کفر ہے قرآن کریم میں اپنی رائے سے کچھ کہنا کفر ہے سید عالم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے۔ جو قرآن میں اپنی رائے سے کچھ کہے وہ اپنا ٹھکانہ آگ سے بنائے۔ چونکہ قرآن کریم خالق کائنات کی تصنیف ہے اور اس کا اپنا کلام ہے۔ اگر یہ حضور ﷺ کا اپنا کلام اور اپنی تصنیف ہوتی تو سرکار ﷺ اس کی پوری وضاحت فرماتے غور کرنے سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ اللہ تعالی نے شاید عقدہ کو کمپیوٹر کے دور کیلئے محفوظ رکھا تھا۔
19 کے ہندسہ میں ایک دھائی اور 9 اکائیاں ہیں۔ گنتی میں مکمل قدرتی ہندسہ ایک سے کم اور نو سے زیادہ نہیں۔ کوئی بھی فلاسفر آج تک سے بڑا ایک عدد والا ہندسہ نہیں لا سکا اور نہ ہی لا سکے گا۔ گویا کہ اس ۱۹ کے عدد نے ایک سے لے کر نو تک کے تمام ہندسوں کو اپنے احاطہ میں لے لیا اور 9 کا ہندسہ ایک ایسا ہندسہ ہے کہ اسے ایک سے لے کر کسی بھی بڑے ہند سے سے ضرب دی جائے تو حاصل ضرب کو آپس میں جمع کر کے ایک ہندسہ جواب میں لائیں تو جواب ۹ ہی آئے گا۔
مثلاً
اسی طرح کسی بھی مکمل عدد کو 9 سے ضرب دے کر حاصل ضرب کو مذکورہ بالا طریقہ سے جمع فرمائیں گے تو جواب وہی آئے گا۔ جب آپ 19 ہندسہ کی تفصیل میں جائیں گے تو ایسے حیرت انگیز حقائق سامنے آئیں گے کہ انسان بے ساختہ پکار اٹھے گا۔ اللہ کی قسم یہ انسانی کلام نہیں ہے
قرآن کریم میں چھوٹی بڑی 114 سورتیں ہیں جو 19 کو 6 سے ضرب دینے کا حاصل ہے۔ یعنی 114=6x19
جب آپ قرآن مجید کی سورتوں کو آخر سے پیچھے کی طرف گنیں گے یعنی پہلے والناس پھر فلق تو ٹھیک 19 ویں نمبر پر سورہ اقراء جو پہلی وحی ہے آتی ہے۔
قرآن پاک کا آغاز بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ سے ہوتا ہے۔ بسم اللہ شریف کے حروف کی تعداد بھی 19 ہے۔
آپ حیران ہوں گے کہ بسم اللہ شریف میں آنے والے چاروں الفاظ یعنی اسم، الله، الرحمان، الرحیم، قرآن مجید میں جتنی بار آئے ہیں وہ 19 پر پورے پورے تقسیم ہو جاتے ہیں کسی ایک لفظ کی بھی کمی بیشی نہیں۔
| لفظ | تعداد | تفصیل |
|---|---|---|
| اسم | 19 | بالکل 19 بار |
| الله | 2698 | 19×142 |
| الرحمان | 57 | 19×3 |
| الرحیم | 114 | 19×6 |
الفاظ کی یہ زبردست ترتیب قرآن کریم کی سچائی اور عظمت کی دلیل ہے۔
جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا ہے، قرآن پاک میں سورتوں کی تعداد 114 ہے، جو 6×19 کی پیداوار ہے۔ اسی طرح بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ کا نمبر! بھی ہے 144۔ سورہ توبہ کے شروع میں بسم اللہ موجود نہیں ہے اور سورہ نمل میں بسم اللہ دو بار ظاہر ہوتا ہے ایک بار شروع میں اور ایک بار متن میں۔ اگر بسم اللہ سورہ توبہ کے شروع میں بھی ہوتی تو اس کا کُل تعداد 145 ہو جائے گی جسے 19 سے تقسیم نہیں کیا جا سکتا۔ غور کرنے پر یہ واضح ہو جاتا ہے کہ قرآن اور اس کے متن کی ترتیب یہ دونوں اللہ تعالیٰ کے شاندار شاہکار ہیں۔
ابتدائی حروف (مقطعات) جو قرآن مجید کی 29 سورتوں کے شروع میں آتے ہیں، ان سورتوں میں ان حروف کی کل تعداد بالکل 19 سے تقسیم ہوتا ہے۔
سورہ مریم میں مقاتاطہ کے 7 حروف یہ حروف سورہ مریم کے شروع میں آتے ہیں۔ ان کی تعداد درج ذیل ہے:
کِہ۔۔۔۔ 26+122+345+168+137=798 یہ بھی 19 سے بالکل قابل تقسیم ہے۔ 798=19×42
حروف مقطعات قرآن مجید کی 29 سورتوں کے شروع میں ظاہر ہوتے ہیں۔ غور طلب بات ہے کہ جب ہم ان حروف کو متذکرہ سورتوں میں سے الگ الگ شمار کرتے ہیں تو ہر حرف کی کل تعداد بالکل 19 سے تقسیم ہوتا ہے۔
| حرف | کل تعداد | تقسیم |
|---|---|---|
| ع | 304 | 304 ÷ 19 = 16 |
| ق | 114 | 114 ÷ 19 = 6 |
| ن | 133 | 133 ÷ 19 = 7 |
مذکورہ بالا تفصیل پر غور و خوص کے بعد یہ حقیقت اظہر من الشمس ہو جاتی ہے کہ قرآن مجید کا حسابی نظام اتنا پیچیدہ مگر منظم ہے کہ یہ انسانی عقل کے بس کی بات نہیں۔ لاریب تمام جن و انس مل کر بھی ایسی بے مثال محیر العقول کتاب تیار نہیں کر سکتے۔
زمانہ حاضرہ پر نظر ڈالیں اس وقت شام، دمشق، مصر اور عراق میں لاکھوں عیسائی اور یہودی ایک محتاط اندازے کے مطابق 200 ملین کے قریب موجود ہیں۔ جن کی مادری زبان عربی ہے، جو عربی زبان میں نثر لکھنے پر قادر ہیں، جن کی ادارت میں اخبار اور رسائل اشاعت پذیر ہیں۔ ان میں ایسے ایسے ادیب اور ماہر لسانیات ہیں جنہوں نے لغات عربیہ پر نظر المحیط، المنجد، اقرب الموارد، والحط جیسی ضخیم کتابیں لکھ ڈالیں مگر وہ تورات، زبور اور انجیل کے بارے میں اس قسم کے کمپیوٹرائزڈ نظام نہ پیش کر سکے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ قدرت نے یہ نظام ازل ہی سے قرآن مجید کے لیے مختص فرما دیا تھا۔ جس کا اظہار اب کمپیوٹر کے زمانے میں ہوا ہے۔
| سورۃ | ابتدائی حروف | تعداد ا | تعداد ل | تعداد م | ٹوٹل |
|---|---|---|---|---|---|
| البقرہ | الم | 4592 | 3204 | 2195 | 9991 |
| العنكبوت | الم | 784 | 554 | 347 | 1685 |
| الروم | الم | 545 | 396 | 318 | 1259 |
| لقمان | الم | 348 | 298 | 177 | 823 |
| السجدة | الم | 268 | 154 | 158 | 580 |
| الرعد | الم | 625 | 479 | 260 | 1364 |
| الأعراف | المص | 2572 | 1523 | 1165 | 5260 |
| تعداد | حرف |
|---|---|
| 12,312 | ا (الف) |
| 8,493 | ل (لام) |
| 5,871 | م (میم) |
| 26,676 | کل (ا + ل + م ) |
| حساب | نتیجہ | حرف |
|---|---|---|
| 648 : 19 ÷ 12312 | 648 | اَلِف |
| 447 : 19 ÷ 8493 | 447 | ل |
| 309 : 19 ÷ 5871 | 309 | م |
| 1404 : 19 ÷ 26676 | 1404 | مجموعی حروف |
(مفتی عبداللطیف قادری، ماہنامہ انور حیدر، مئی 1999)